Monday, 18 September 2017

Novel Ehtajaj Page3


 
آخر اُن سے تنگ آکر ایک وردی والے نے بھرسٹ فضا میں مار دیا، کئی چیلیں اوراُن کے ساتھ چند کوئے بھی قبر پر اور قبر کے ارد
 
گرد ڈھیر ہو گئے۔ایک موٹی تازی چیل نے پر پھڑپھڑائے اور اوپر فضا میں جاتے ہوئے واویلا کرنے لگی ۔


’’ہائے میں لُٹ گئی ۔۔۔۔ میری بیٹی،بیٹا، میرا سرتاج سب مارے گئے۔۔۔۔ ہائے میں لُٹ گئی ۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔ہائے۔‘‘
 
چیلوں کا بہت بڑا غول اُس کے گرد جمع ہو کر ماتم کرنے لگا۔اُس نے آہ و زاری کرتے ہوئے لمبی پرواز بھری اور مغرب کی جانب اُڑتے ہوئے کہا نکلو یہاں سے سب 

نکلو۔۔۔۔ سفاک ماحول میں نہیں رہونگی۔۔۔۔سب چیلیں اُس کے پیچھے ہو لیں ۔قریبی ملک کی سرحد کو عبور کرنے ہی والی تھیں کہ سردار چیل نے آواز دی۔
’’ 
رُک جاؤ۔۔۔۔ سب چیلیں گول دائرے میں اُڑنے لگیں۔سنو۔۔۔۔ میری ہم نفسو کہاں جا رہی ہو اس علاقے اور اس ملک جیسے شفیق اور رحم کے دیوتا تمھیں کہیں 

اور نہیں ملیں گے۔ یہ تمھیں سب سے عالی گوشت پیش کرتے ہیں۔ بھلا انسانوں کا ترش و شیریں مزے دار ماس تمھیں کہیں اور مل سکتا ہے؟ یہ پیارے اور رحم دل 

لوگ ہیں اپنے ہم جنسوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں یہ مہربانیاں شاید صدیوں پہلے ہمارے آباؤاجداد نے دیکھی ہوں عہدِحاضر میں دنیا کے کسی اور حصے میں اس کی مثال 

نہیں مل سکتی۔ گذشتہ برس ہم نے سرد ملکوں کا دورہ کیا ۔۔۔۔خوراک کیلئے کیا کیا جتن نہ کئے ۔۔۔۔ ہمیں گندگی کے ڈھیر تو کیا ایک مردہ مینڈک بھی نہ مل سکا۔رہی 

بات گرم ممالک کی تو اُن کا حال بھی تم دیکھ چکی ہو۔وہاں ہر طرف گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں لیکن وہاںآدم زاد اور اُن کے بچے خوراک تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔وہاں 


سے روزی تلاش کرنا کوئے کا ہی کام ہے ہمیں تو آدم زاد پاس بھی نہیں بھٹکنے دیتے۔لہٰذا میری بات مانو اور یہ ناز نخرے اور ماتم داری چھوڑ کر واپس آجاؤ آؤ۔۔۔۔لوٹ 

آؤ میرے پیچھے۔‘‘ 
 
ماتم داری کرنے والی چیل کے گرد صرف چند چیلیں رہ گئیں۔درد اور بھوک سے نڈھال چیل نے اپنے قریب اُڑنے والے نر چیل سے پوچھاتم تو میرے ہی ساتھ ہو نا 

پیارے۔۔۔۔؟

 نر چیل سوچ میں گُم ہوگیا۔۔۔۔اور بولا۔’’ اوہ۔۔۔۔ دراصل میرا دماغ تو تمھارے ہی ساتھ ہے لیکن پیٹ سردار کے ساتھ ۔۔۔۔کیا کروں گدھ جوہوں ۔ہمارا پیٹ 

 بھی مارگلہ پہاڑوں کے دامن کے بادشاہوں کے پیٹ کی طرح بھرتا ہی نہیں۔۔۔۔میری مانو تو واپس چلتے ہیں۔غم زدہ چیل نے بھی غول کے پیچھے واپس اُڑنا شروع کر 

دیااور سرد آہ بھری !اُف ہماری بھوک اور آد م زاد کی ہوس کب مٹے گی؟‘‘
   
اُدھر جب کوؤں نے اپنی برادری کی چند لاشیں پڑی دیکھیں تو سارے رخائن سے کوؤں کو جمع کر لیا۔۔۔۔ کائیں کائیں کرتے اُجڑے چوٹ پیون کے آسمان کو سر پر اُٹھا 

لیا۔۔۔۔ وہ وقفے وقفے سے بجلی جیسی تیزی سے پرواز کرتے ہوئے وردی میں ملبوس فوجیوں پر حملے کر رہے تھے۔۔۔۔ تم نے ہمارے ہم نفس بھون ڈالیں ہیں تمھارا 

حساب لیں گے۔۔۔۔ کوّے درندوں کے’’کام‘‘ میں شدید مشکلات پیدا کر رہے تھے ۔جب بھی کوئی وردی والا تھوڑا ساالگ ہوتا کوا آفت بن کراُس پرگرتا۔ اُس کے 

سر یا ننگی گردن پر چونچ سے کاری ضرب لگاتا اور اوپر اُڑ جاتا۔۔۔۔ فضا میں بلند ہو کر جوش سے نعرہ لگاتا ’’ہم نہتے مسلمان نہیں ہمارے ہتھیار تیار اور تیز ہیں۔‘‘ کائیں 

 کائیں۔

 سورج اُفق پر آخری سانسیں لے رہا تھا ۔۔۔۔ جیسے ہانپ رہا ہو یا پھر تھک چکا ہو۔۔۔۔زرد پیلا بالکل ایک گول تھال کی مانند دکھائی دے رہاتھا۔اُدھر درندے اپنا 

’’کام‘‘کر چکے تھے۔باقی کام اُنہوں نے کل کے لئے چیلوں کیلئے چھوڑدیا تھا۔کوئے ابھی تک فضا میں شور کر رہے تھے اور وقفے وقفے سے اُن پر حملہ آور ہو رہے 

تھے۔اگرچہ اُن کی تعداد اب گنتی کی رہ گئی تھی۔ سرکاری گاڑی شہر کی طرف روانہ ہو چکی تھی ۔ اور کوّے بدستور اُس کا پیچھا کر رہے تھے ۔دو کوؤں نے پھرگاڑی پر حملہ 

کیااور یہ کہتے ہوئے فضا میں بلند پرواز بھرنے لگے۔
 
’’ظالمو!تمھارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے ۔ہم کوئے ہیں ،عہدِ حاضر کے آدم زاد نہیں جو اپنے جیسے گوشت پوست اور لہورکھنے والوں کو ذبح ہوتے دیکھ کر خاموش ہو جائیں۔ ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔‘‘


 







Novel Ehtajaj Page2



پولیس آفسر ہاتھ سے گن نیچے دھکیلتے ہوئے بڑے متکبرانہ اندازسے بولا۔
 
 
 ’’نہیں نہیں ایسے نہیں۔۔۔۔اس پر گولی بالکل ضائع نہیں کرنی نہ ہی اسے ذبح کر کے اپنے ہاتھ اس کے ناپاک خون سے آلودہ کرنے ہیں۔اس کے ان پیاروں کو ان 

سب سانپوں کو اس کے سامنے ذبح کرو پھر ان سب کی تہہ بہ تہہ دیوار اس کے گرد کھڑی کر دو تا کہ یہ اپنے پیاروں کو خوب چوم چاٹ لے جن کے پیار میں اس نے 


ہماری وین پر پتھر پھنکنے کی ناپاک جرأت کی۔اس کے گرد قبر کھڑی کرنے کے علاوہ کسی سانپ کو نہیں مارنا نہ آج آگ لگانی ہے۔جو بھاگ گئے سو بھاگ گئے اور جو 

واپس آئیں گے۔۔۔۔.تو اُن کے لئے یہ قبر عبرت بن جائے گی ۔میں جا رہا ہوں یہ’’ کام‘‘ مکمل کر کے لوٹنا ہے۔ ‘‘
    
پھر چار پانچ کارندوں درندوں نے اپنا’’ کام ‘‘شروع کیا۔ نورالحسن جیسے کوئی ڈراؤ نا خواب دیکھ رہا ہو۔نورالحسن کا روں روں کانپنے لگا وہ حیران تھاکہ یہ زمین کیوں نہیں 

 لرز رہی۔۔۔۔اس اندوہناک منظر کو دیکھ کر آسمان بھی رونے لگا۔۔۔۔کالے سیاہ بادلوں نے سورج کی روشنی کو لپیٹ لیا۔چیخیں،آہیں،سسکیاں۔۔۔۔مرغِ نیم بسمل 

 کی مانند تڑپتے پیاروں کے وجود نورالحسن کے سامنے تھے۔ ایک درندہ بولا ’’سیتل ، ارے چیت اس گندی مخلوق پر ہم و قت ضائع کر تے رہیں گے۔ تم اس پلیت کے 

گرد دیوارکھڑی کرنا شروع کردو۔۔۔۔‘‘پھر نورلحسن کا باپ اس کے قدموں میں خون میں لت پت پڑا تھا۔۔۔۔

ستیل بولا !’’ارے! اس سالے کو ذرا پرواہ نہیں نہ چیخ نہ پکار نہ واویلا ۔۔۔۔ ارے !اسے چُپ لگ گئی ہے غم سے خوگر ہو گیا ہے۔۔۔۔‘‘
 
ایک گردن پر ٹوکا چلاتے اور ہانپتے ہوئے ایک اور درندہ بولا!’’ارے !جنت کے نظارے کر رہا ہے۔۔۔۔دیکھو سالا ۔۔۔۔مسکرا رہا ہے۔۔۔۔ جیسے کوئی خوش ذائقہ 

پھل چوس رہا ہو۔‘‘

نورالحسن جس پراب ایک عجیب سکوت و سکون طاری تھا زیرِلب مسکرایا اور دل ہی دل میں کہا ہاں میں نے پھل چکھ لیا ہے اس پھل کا مزہ تم بدھی کیا جانو۔۔۔۔یہ 

 میرے ہی پیارے دین کا تحفہ ہے جو تمھارے دھرم میں کہاں ۔۔۔۔یہ کتنا میٹھا اور مزے کا ہے یہ میں جانتا ہوں۔۔۔۔یہ پھل میرے حسینؓ کربلا میں چکھ کر میرے 

لیے مثال چھوڑ گئے ہیں۔

نورالحسن کی قبر اس کے سینے تک چُن دی گئی تھی۔اب تو سورج نصف النھارپر پہنچ کر آگ برسانے لگا تھا ۔جیسے بادلوں کی اوٹ میں جانے کا غصہ نکا ل رہا ہو۔یا جیسے 

انسانیت سوز مظالم دیکھ کر مزید آگ بگولا ہو گیا ہو۔۔۔۔انسانی لاشوں پر بھی تمازت کے باعث کیمیائی اثرات شروع ہو گئے تھے۔اس قبر کو تکمیل تک پہنچانے میں 

چیلیں بھی رکاوٹ ڈال رہی تھیں وہ تروتازہ اخوان پر چھپٹنے کو بے تاب تھیں۔بعض اوقات دو تین چیلیں درندوں کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود قبر پرچھپٹتیں اور 

بوٹیوں کے نوچنے کے عمل سے اوپر کی ایک دو لاشیں گرا دتیں۔ پتہ نہیں درندے ان کی پیٹ بھرنے کی اس اضطراری کیفیت سے تنگ تھے یا کہ وہ درندوں سے تنگ 

تھیں کہ یہ سفاک اپنا’’کام‘‘ ختم کریں اور ہم پیٹ کا دوزخ بھریں۔


Novel Ehtajaj Page1



گاؤں کے عین وسط میں ایک جوہڑکے کنارے اسے گاڑی سے اُتار دیا گیا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے ساتھ بندھے تھے اور وہ بے کسی کی تصویر بنے اپنے گاوں 

کی پکڈنڈیوں اور گلی کوچوں کو گھور رہا تھا۔ سورج نے مشرق سے طلوع ہو کر اپنی سنہری کرنوں سے اجالے بکھیرنے شروع کر دیئے تھے لیکن وہ جانتا تھا کہ آج اس 

گاؤں چوٹ پیون پر کبھی نہ ختم ہونے والی تاریکی کا دور شروع ہونے والا ہے۔ایک توانا پولیس مین کی ایک قوی سی لات نے اسے جھٹکا سا دیا اور وہ خیالوں ہی خیالوں 

میں کالج میں پہنچ گیا۔ جیسے پرنسپل صاحب سے مخاطب ہو۔جنابِ عالی! آپ کی اپنی لیڈر، آپ کی قوم کی ہیرو کے نوبل انعام لیتے وقت بھی یہی الفاظ تھے ۔

 
 ’’جہاں بھی اذیت کو نظر اندازکیا جائے گا وہاں کشمکش کے بیج اُگ آئیں گے۔تکلیف میں اضافہ تلخی اور پھر تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔‘‘ 

  اس سے قبل کہ پرنسپل کوئی جواب دیتا پولیس افسر گرجا ’’کمینے تمھارا مسلم ہونا ہی ایک بڑا جُرم ہے اس کے باوجود ہم تمھیں اپنی دھرتی پر برداشت کر رہے ہیں۔پھر 
 
     حرام زادے سانپ تو نے پولیس وین پر پتھر پھینکنے کی جرأت کیسے کی۔۔۔۔؟‘‘
 
ابھی اس کے ذہن سے کہانی کا آغاز محو نہ ہوا تھا کہ کہانی کلائمکس پر پہنچ گئی ۔۔۔۔گاؤں سے مرد و زن اور بچوں کی چینح وپکار نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ یہ لوگ چیختے چلاتے 


گاؤں سے افراتفری کے عالم میں ایسے بھاگ رہے تھے جیسے ریوڑ میں بھڑئیے گھس آئے ہوں اور بھیڑیں اِدھر اُدھر بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ 

اس شور کے بعد فائرنگ کی آوازیں اس کے دل کے ٹکڑے کر رہی تھی۔ تقریباً نصف گھنٹہ بعد پولیس اور اوباش بلوائی اس کے قریبی خاندان کے بیس پچیس مرد 

عورتیں اور بچے ہانکتے ہوئے اس کے سامنے لے آئے اُن سب کو اس کے گرد ایک دائرے میں بیٹھنے کا حکم جاری ہوا۔اُس کی ماں نے جب لختِ جگر نورالحسن کو 

رسیوں میں جکڑے دیکھا تو ہولناک آوازیں نکالتی ہوئی اُس کی طرف دوڑی اسے سینے سے لگانے کے لئے ۔۔۔۔اس کا تین سالہ معصوم بھی چلاتے ہوئے ماں کے 

پیچھے دوڑا۔ پولیس کا نوجوان ماں بیٹے کے درمیان بجلی کی سی تیزی سے حائل ہوتے ہوئے عورت کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا کہ وہ چکراتی ہوئی دور جا گری اور اس کے

 منہ اور ناک سے خون بہنے لگا ۔ اس کے پیچھے دوڑتا معصوم نور الدین بھی بوسیدہ دیوار کی طرح زمین بوس ہوئی ماں کے ساتھ لپٹ گیا۔ایک موٹا تازہ بلوائی مجمعے کو چیرتا 

ہوا آگے بڑھا ننھے نورالدین کو ماں سے الگ کر کے زمین پر دے پٹخا اور دایاں پاؤں ننھے کے حلق پر اور بایاں پاؤں اس کی ٹانگوں پر رکھ دیایوں ’’ نوری‘‘ کو چیخنے چلانے 

سے جلد رہائی مل گئی۔ اپنے لاڈلے اور پیارے بھائی نوری کی حا لتِ زار دیکھ کر رسیوں میں جگڑے نورالحسن نے آنکھیں بھینچ لیں اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی 

 لڑی اس کے بے بس پاؤں کے پنجوں پر پڑی۔
    
سپاہی نے گن نورالحسن کے شانے پر لیجاتے ہوئے آنکھوں کی زبان سے پولیس آفسر سے اس کا کام تمام کرنے کی اجازت چاہی

                                                            
Next Page