آخر اُن سے تنگ آکر ایک وردی والے نے بھرسٹ فضا میں مار دیا،
کئی چیلیں اوراُن کے ساتھ چند کوئے بھی قبر پر اور قبر کے ارد
گرد ڈھیر ہو گئے۔ایک موٹی تازی چیل نے پر پھڑپھڑائے اور
اوپر فضا میں جاتے ہوئے واویلا کرنے لگی ۔
’’ہائے میں لُٹ گئی ۔۔۔۔ میری بیٹی،بیٹا، میرا سرتاج سب مارے گئے۔۔۔۔ ہائے میں لُٹ گئی ۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔ہائے۔‘‘
چیلوں کا بہت بڑا غول اُس کے گرد جمع ہو کر ماتم کرنے لگا۔اُس
نے آہ و زاری کرتے ہوئے لمبی پرواز بھری اور مغرب کی جانب اُڑتے ہوئے کہا نکلو
یہاں سے سب
نکلو۔۔۔۔ سفاک ماحول میں نہیں رہونگی۔۔۔۔سب چیلیں اُس کے پیچھے ہو لیں
۔قریبی ملک کی سرحد کو عبور کرنے ہی والی تھیں کہ سردار چیل نے آواز دی۔
’’
’’
رُک جاؤ۔۔۔۔ سب چیلیں گول دائرے میں
اُڑنے لگیں۔سنو۔۔۔۔ میری ہم نفسو کہاں جا رہی ہو اس علاقے اور اس ملک جیسے شفیق
اور رحم کے دیوتا تمھیں کہیں
اور نہیں ملیں گے۔ یہ تمھیں سب سے عالی گوشت پیش کرتے
ہیں۔ بھلا انسانوں کا ترش و شیریں مزے دار ماس تمھیں کہیں اور مل سکتا ہے؟ یہ
پیارے اور رحم دل
لوگ ہیں اپنے ہم جنسوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں یہ مہربانیاں شاید
صدیوں پہلے ہمارے آباؤاجداد نے دیکھی ہوں عہدِحاضر میں دنیا کے کسی اور حصے میں اس
کی مثال
نہیں مل سکتی۔ گذشتہ برس ہم نے سرد ملکوں کا دورہ کیا ۔۔۔۔خوراک کیلئے کیا
کیا جتن نہ کئے ۔۔۔۔ ہمیں گندگی کے ڈھیر تو کیا ایک مردہ مینڈک بھی نہ مل سکا۔رہی
بات گرم ممالک کی تو اُن کا حال بھی تم دیکھ چکی ہو۔وہاں ہر طرف گندگی کے ڈھیر پڑے
ہیں لیکن وہاںآدم زاد اور اُن کے بچے خوراک تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔وہاں
سے روزی
تلاش کرنا کوئے کا ہی کام ہے ہمیں تو آدم زاد پاس بھی نہیں بھٹکنے دیتے۔لہٰذا میری
بات مانو اور یہ ناز نخرے اور ماتم داری چھوڑ کر واپس آجاؤ آؤ۔۔۔۔لوٹ
آؤ میرے
پیچھے۔‘‘
ماتم داری کرنے والی چیل کے گرد صرف چند چیلیں رہ گئیں۔درد اور
بھوک سے نڈھال چیل نے اپنے قریب اُڑنے والے نر چیل سے پوچھاتم تو میرے ہی ساتھ ہو
نا
پیارے۔۔۔۔؟
نر چیل سوچ میں گُم ہوگیا۔۔۔۔اور بولا۔’’ اوہ۔۔۔۔ دراصل میرا
دماغ تو تمھارے ہی ساتھ ہے لیکن پیٹ سردار کے ساتھ ۔۔۔۔کیا کروں گدھ جوہوں ۔ہمارا
پیٹ
بھی مارگلہ پہاڑوں کے دامن کے بادشاہوں کے پیٹ کی طرح بھرتا ہی نہیں۔۔۔۔میری
مانو تو واپس چلتے ہیں۔غم زدہ چیل نے بھی غول کے پیچھے واپس اُڑنا شروع کر
دیااور
سرد آہ بھری !اُف ہماری بھوک اور آد م زاد کی ہوس کب مٹے گی؟‘‘
اُدھر جب کوؤں نے اپنی برادری کی چند لاشیں پڑی دیکھیں تو سارے
رخائن سے کوؤں کو جمع کر لیا۔۔۔۔ کائیں کائیں کرتے اُجڑے چوٹ پیون کے آسمان کو سر
پر اُٹھا
لیا۔۔۔۔ وہ وقفے وقفے سے بجلی جیسی تیزی سے پرواز کرتے ہوئے وردی میں
ملبوس فوجیوں پر حملے کر رہے تھے۔۔۔۔ تم نے ہمارے ہم نفس بھون ڈالیں ہیں تمھارا
حساب لیں گے۔۔۔۔ کوّے درندوں کے’’کام‘‘ میں شدید مشکلات پیدا کر رہے تھے ۔جب بھی
کوئی وردی والا تھوڑا ساالگ ہوتا کوا آفت بن کراُس پرگرتا۔ اُس کے
سر یا ننگی گردن
پر چونچ سے کاری ضرب لگاتا اور اوپر اُڑ جاتا۔۔۔۔ فضا میں بلند ہو کر جوش سے نعرہ
لگاتا ’’ہم نہتے مسلمان نہیں ہمارے ہتھیار تیار اور تیز ہیں۔‘‘ کائیں
کائیں۔
سورج اُفق پر آخری سانسیں لے رہا تھا ۔۔۔۔ جیسے ہانپ رہا ہو یا پھر
تھک چکا ہو۔۔۔۔زرد پیلا بالکل ایک گول تھال کی مانند دکھائی دے رہاتھا۔اُدھر درندے
اپنا
’’کام‘‘کر چکے تھے۔باقی کام اُنہوں نے کل کے لئے چیلوں کیلئے چھوڑدیا
تھا۔کوئے ابھی تک فضا میں شور کر رہے تھے اور وقفے وقفے سے اُن پر حملہ آور ہو رہے
تھے۔اگرچہ اُن کی تعداد اب گنتی کی رہ گئی تھی۔ سرکاری گاڑی شہر کی طرف روانہ ہو
چکی تھی ۔ اور کوّے بدستور اُس کا پیچھا کر رہے تھے ۔دو کوؤں نے پھرگاڑی پر حملہ
کیااور یہ کہتے ہوئے فضا میں بلند پرواز بھرنے لگے۔
’’ظالمو!تمھارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے
۔ہم کوئے ہیں ،عہدِ حاضر کے آدم زاد نہیں جو اپنے جیسے گوشت پوست اور لہورکھنے
والوں کو ذبح ہوتے دیکھ کر خاموش ہو جائیں۔ ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔‘‘
No comments:
Post a Comment