Monday, 18 September 2017

Novel Ehtajaj Page1



گاؤں کے عین وسط میں ایک جوہڑکے کنارے اسے گاڑی سے اُتار دیا گیا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے ساتھ بندھے تھے اور وہ بے کسی کی تصویر بنے اپنے گاوں 

کی پکڈنڈیوں اور گلی کوچوں کو گھور رہا تھا۔ سورج نے مشرق سے طلوع ہو کر اپنی سنہری کرنوں سے اجالے بکھیرنے شروع کر دیئے تھے لیکن وہ جانتا تھا کہ آج اس 

گاؤں چوٹ پیون پر کبھی نہ ختم ہونے والی تاریکی کا دور شروع ہونے والا ہے۔ایک توانا پولیس مین کی ایک قوی سی لات نے اسے جھٹکا سا دیا اور وہ خیالوں ہی خیالوں 

میں کالج میں پہنچ گیا۔ جیسے پرنسپل صاحب سے مخاطب ہو۔جنابِ عالی! آپ کی اپنی لیڈر، آپ کی قوم کی ہیرو کے نوبل انعام لیتے وقت بھی یہی الفاظ تھے ۔

 
 ’’جہاں بھی اذیت کو نظر اندازکیا جائے گا وہاں کشمکش کے بیج اُگ آئیں گے۔تکلیف میں اضافہ تلخی اور پھر تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔‘‘ 

  اس سے قبل کہ پرنسپل کوئی جواب دیتا پولیس افسر گرجا ’’کمینے تمھارا مسلم ہونا ہی ایک بڑا جُرم ہے اس کے باوجود ہم تمھیں اپنی دھرتی پر برداشت کر رہے ہیں۔پھر 
 
     حرام زادے سانپ تو نے پولیس وین پر پتھر پھینکنے کی جرأت کیسے کی۔۔۔۔؟‘‘
 
ابھی اس کے ذہن سے کہانی کا آغاز محو نہ ہوا تھا کہ کہانی کلائمکس پر پہنچ گئی ۔۔۔۔گاؤں سے مرد و زن اور بچوں کی چینح وپکار نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ یہ لوگ چیختے چلاتے 


گاؤں سے افراتفری کے عالم میں ایسے بھاگ رہے تھے جیسے ریوڑ میں بھڑئیے گھس آئے ہوں اور بھیڑیں اِدھر اُدھر بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ 

اس شور کے بعد فائرنگ کی آوازیں اس کے دل کے ٹکڑے کر رہی تھی۔ تقریباً نصف گھنٹہ بعد پولیس اور اوباش بلوائی اس کے قریبی خاندان کے بیس پچیس مرد 

عورتیں اور بچے ہانکتے ہوئے اس کے سامنے لے آئے اُن سب کو اس کے گرد ایک دائرے میں بیٹھنے کا حکم جاری ہوا۔اُس کی ماں نے جب لختِ جگر نورالحسن کو 

رسیوں میں جکڑے دیکھا تو ہولناک آوازیں نکالتی ہوئی اُس کی طرف دوڑی اسے سینے سے لگانے کے لئے ۔۔۔۔اس کا تین سالہ معصوم بھی چلاتے ہوئے ماں کے 

پیچھے دوڑا۔ پولیس کا نوجوان ماں بیٹے کے درمیان بجلی کی سی تیزی سے حائل ہوتے ہوئے عورت کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا کہ وہ چکراتی ہوئی دور جا گری اور اس کے

 منہ اور ناک سے خون بہنے لگا ۔ اس کے پیچھے دوڑتا معصوم نور الدین بھی بوسیدہ دیوار کی طرح زمین بوس ہوئی ماں کے ساتھ لپٹ گیا۔ایک موٹا تازہ بلوائی مجمعے کو چیرتا 

ہوا آگے بڑھا ننھے نورالدین کو ماں سے الگ کر کے زمین پر دے پٹخا اور دایاں پاؤں ننھے کے حلق پر اور بایاں پاؤں اس کی ٹانگوں پر رکھ دیایوں ’’ نوری‘‘ کو چیخنے چلانے 

سے جلد رہائی مل گئی۔ اپنے لاڈلے اور پیارے بھائی نوری کی حا لتِ زار دیکھ کر رسیوں میں جگڑے نورالحسن نے آنکھیں بھینچ لیں اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی 

 لڑی اس کے بے بس پاؤں کے پنجوں پر پڑی۔
    
سپاہی نے گن نورالحسن کے شانے پر لیجاتے ہوئے آنکھوں کی زبان سے پولیس آفسر سے اس کا کام تمام کرنے کی اجازت چاہی

                                                            
Next Page  








No comments:

Post a Comment