پولیس آفسر ہاتھ سے گن نیچے دھکیلتے ہوئے
بڑے متکبرانہ اندازسے بولا۔
’’نہیں نہیں ایسے نہیں۔۔۔۔اس پر گولی
بالکل ضائع نہیں کرنی نہ ہی اسے ذبح کر کے اپنے ہاتھ اس کے ناپاک خون سے آلودہ
کرنے ہیں۔اس کے ان پیاروں کو ان
سب سانپوں کو اس کے سامنے ذبح کرو پھر ان سب کی
تہہ بہ تہہ دیوار اس کے گرد کھڑی کر دو تا کہ یہ اپنے پیاروں کو خوب چوم چاٹ لے جن
کے پیار میں اس نے
ہماری وین پر پتھر پھنکنے کی ناپاک جرأت کی۔اس کے گرد قبر کھڑی
کرنے کے علاوہ کسی سانپ کو نہیں مارنا نہ آج آگ لگانی ہے۔جو بھاگ گئے سو بھاگ گئے
اور جو
واپس آئیں گے۔۔۔۔.تو اُن کے لئے یہ قبر عبرت بن جائے گی ۔میں جا رہا ہوں
یہ’’ کام‘‘ مکمل کر کے لوٹنا ہے۔ ‘‘
پھر چار پانچ کارندوں درندوں نے اپنا’’ کام ‘‘شروع کیا۔
نورالحسن جیسے کوئی ڈراؤ نا خواب دیکھ رہا ہو۔نورالحسن کا روں روں کانپنے لگا وہ
حیران تھاکہ یہ زمین کیوں نہیں
لرز رہی۔۔۔۔اس اندوہناک منظر کو دیکھ کر آسمان بھی
رونے لگا۔۔۔۔کالے سیاہ بادلوں نے سورج کی روشنی کو لپیٹ
لیا۔چیخیں،آہیں،سسکیاں۔۔۔۔مرغِ نیم بسمل
کی مانند تڑپتے پیاروں کے وجود نورالحسن
کے سامنے تھے۔ ایک درندہ بولا ’’سیتل ، ارے چیت اس گندی مخلوق پر ہم و قت ضائع کر
تے رہیں گے۔ تم اس پلیت کے
گرد دیوارکھڑی کرنا شروع کردو۔۔۔۔‘‘پھر نورلحسن کا باپ
اس کے قدموں میں خون میں لت پت پڑا تھا۔۔۔۔
ستیل بولا !’’ارے! اس سالے کو ذرا پرواہ نہیں نہ چیخ نہ پکار نہ واویلا ۔۔۔۔ ارے !اسے چُپ لگ گئی ہے غم سے خوگر ہو گیا ہے۔۔۔۔‘‘
ایک گردن پر ٹوکا چلاتے اور ہانپتے ہوئے ایک اور درندہ
بولا!’’ارے !جنت کے نظارے کر رہا ہے۔۔۔۔دیکھو سالا ۔۔۔۔مسکرا رہا ہے۔۔۔۔ جیسے کوئی
خوش ذائقہ
پھل چوس رہا ہو۔‘‘
نورالحسن جس پراب ایک عجیب سکوت و سکون طاری تھا زیرِلب مسکرایا
اور دل ہی دل میں کہا ہاں میں نے پھل چکھ لیا ہے اس پھل کا مزہ تم بدھی کیا
جانو۔۔۔۔یہ
میرے ہی پیارے دین کا تحفہ ہے جو تمھارے دھرم میں کہاں ۔۔۔۔یہ کتنا
میٹھا اور مزے کا ہے یہ میں جانتا ہوں۔۔۔۔یہ پھل میرے حسینؓ کربلا میں چکھ کر میرے
لیے مثال چھوڑ گئے ہیں۔
نورالحسن کی قبر اس کے سینے تک چُن دی گئی تھی۔اب تو سورج نصف
النھارپر پہنچ کر آگ برسانے لگا تھا ۔جیسے بادلوں کی اوٹ میں جانے کا غصہ نکا ل
رہا ہو۔یا جیسے
انسانیت سوز مظالم دیکھ کر مزید آگ بگولا ہو گیا ہو۔۔۔۔انسانی
لاشوں پر بھی تمازت کے باعث کیمیائی اثرات شروع ہو گئے تھے۔اس قبر کو تکمیل تک
پہنچانے میں
چیلیں بھی رکاوٹ ڈال رہی تھیں وہ تروتازہ اخوان پر چھپٹنے کو بے تاب
تھیں۔بعض اوقات دو تین چیلیں درندوں کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود قبر پرچھپٹتیں اور
بوٹیوں کے نوچنے کے عمل سے اوپر کی ایک دو لاشیں گرا دتیں۔ پتہ نہیں درندے ان کی
پیٹ بھرنے کی اس اضطراری کیفیت سے تنگ تھے یا کہ وہ درندوں سے تنگ