Monday, 18 September 2017

Novel Ehtajaj Page2



پولیس آفسر ہاتھ سے گن نیچے دھکیلتے ہوئے بڑے متکبرانہ اندازسے بولا۔
 
 
 ’’نہیں نہیں ایسے نہیں۔۔۔۔اس پر گولی بالکل ضائع نہیں کرنی نہ ہی اسے ذبح کر کے اپنے ہاتھ اس کے ناپاک خون سے آلودہ کرنے ہیں۔اس کے ان پیاروں کو ان 

سب سانپوں کو اس کے سامنے ذبح کرو پھر ان سب کی تہہ بہ تہہ دیوار اس کے گرد کھڑی کر دو تا کہ یہ اپنے پیاروں کو خوب چوم چاٹ لے جن کے پیار میں اس نے 


ہماری وین پر پتھر پھنکنے کی ناپاک جرأت کی۔اس کے گرد قبر کھڑی کرنے کے علاوہ کسی سانپ کو نہیں مارنا نہ آج آگ لگانی ہے۔جو بھاگ گئے سو بھاگ گئے اور جو 

واپس آئیں گے۔۔۔۔.تو اُن کے لئے یہ قبر عبرت بن جائے گی ۔میں جا رہا ہوں یہ’’ کام‘‘ مکمل کر کے لوٹنا ہے۔ ‘‘
    
پھر چار پانچ کارندوں درندوں نے اپنا’’ کام ‘‘شروع کیا۔ نورالحسن جیسے کوئی ڈراؤ نا خواب دیکھ رہا ہو۔نورالحسن کا روں روں کانپنے لگا وہ حیران تھاکہ یہ زمین کیوں نہیں 

 لرز رہی۔۔۔۔اس اندوہناک منظر کو دیکھ کر آسمان بھی رونے لگا۔۔۔۔کالے سیاہ بادلوں نے سورج کی روشنی کو لپیٹ لیا۔چیخیں،آہیں،سسکیاں۔۔۔۔مرغِ نیم بسمل 

 کی مانند تڑپتے پیاروں کے وجود نورالحسن کے سامنے تھے۔ ایک درندہ بولا ’’سیتل ، ارے چیت اس گندی مخلوق پر ہم و قت ضائع کر تے رہیں گے۔ تم اس پلیت کے 

گرد دیوارکھڑی کرنا شروع کردو۔۔۔۔‘‘پھر نورلحسن کا باپ اس کے قدموں میں خون میں لت پت پڑا تھا۔۔۔۔

ستیل بولا !’’ارے! اس سالے کو ذرا پرواہ نہیں نہ چیخ نہ پکار نہ واویلا ۔۔۔۔ ارے !اسے چُپ لگ گئی ہے غم سے خوگر ہو گیا ہے۔۔۔۔‘‘
 
ایک گردن پر ٹوکا چلاتے اور ہانپتے ہوئے ایک اور درندہ بولا!’’ارے !جنت کے نظارے کر رہا ہے۔۔۔۔دیکھو سالا ۔۔۔۔مسکرا رہا ہے۔۔۔۔ جیسے کوئی خوش ذائقہ 

پھل چوس رہا ہو۔‘‘

نورالحسن جس پراب ایک عجیب سکوت و سکون طاری تھا زیرِلب مسکرایا اور دل ہی دل میں کہا ہاں میں نے پھل چکھ لیا ہے اس پھل کا مزہ تم بدھی کیا جانو۔۔۔۔یہ 

 میرے ہی پیارے دین کا تحفہ ہے جو تمھارے دھرم میں کہاں ۔۔۔۔یہ کتنا میٹھا اور مزے کا ہے یہ میں جانتا ہوں۔۔۔۔یہ پھل میرے حسینؓ کربلا میں چکھ کر میرے 

لیے مثال چھوڑ گئے ہیں۔

نورالحسن کی قبر اس کے سینے تک چُن دی گئی تھی۔اب تو سورج نصف النھارپر پہنچ کر آگ برسانے لگا تھا ۔جیسے بادلوں کی اوٹ میں جانے کا غصہ نکا ل رہا ہو۔یا جیسے 

انسانیت سوز مظالم دیکھ کر مزید آگ بگولا ہو گیا ہو۔۔۔۔انسانی لاشوں پر بھی تمازت کے باعث کیمیائی اثرات شروع ہو گئے تھے۔اس قبر کو تکمیل تک پہنچانے میں 

چیلیں بھی رکاوٹ ڈال رہی تھیں وہ تروتازہ اخوان پر چھپٹنے کو بے تاب تھیں۔بعض اوقات دو تین چیلیں درندوں کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود قبر پرچھپٹتیں اور 

بوٹیوں کے نوچنے کے عمل سے اوپر کی ایک دو لاشیں گرا دتیں۔ پتہ نہیں درندے ان کی پیٹ بھرنے کی اس اضطراری کیفیت سے تنگ تھے یا کہ وہ درندوں سے تنگ 

تھیں کہ یہ سفاک اپنا’’کام‘‘ ختم کریں اور ہم پیٹ کا دوزخ بھریں۔


Novel Ehtajaj Page1



گاؤں کے عین وسط میں ایک جوہڑکے کنارے اسے گاڑی سے اُتار دیا گیا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے ساتھ بندھے تھے اور وہ بے کسی کی تصویر بنے اپنے گاوں 

کی پکڈنڈیوں اور گلی کوچوں کو گھور رہا تھا۔ سورج نے مشرق سے طلوع ہو کر اپنی سنہری کرنوں سے اجالے بکھیرنے شروع کر دیئے تھے لیکن وہ جانتا تھا کہ آج اس 

گاؤں چوٹ پیون پر کبھی نہ ختم ہونے والی تاریکی کا دور شروع ہونے والا ہے۔ایک توانا پولیس مین کی ایک قوی سی لات نے اسے جھٹکا سا دیا اور وہ خیالوں ہی خیالوں 

میں کالج میں پہنچ گیا۔ جیسے پرنسپل صاحب سے مخاطب ہو۔جنابِ عالی! آپ کی اپنی لیڈر، آپ کی قوم کی ہیرو کے نوبل انعام لیتے وقت بھی یہی الفاظ تھے ۔

 
 ’’جہاں بھی اذیت کو نظر اندازکیا جائے گا وہاں کشمکش کے بیج اُگ آئیں گے۔تکلیف میں اضافہ تلخی اور پھر تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔‘‘ 

  اس سے قبل کہ پرنسپل کوئی جواب دیتا پولیس افسر گرجا ’’کمینے تمھارا مسلم ہونا ہی ایک بڑا جُرم ہے اس کے باوجود ہم تمھیں اپنی دھرتی پر برداشت کر رہے ہیں۔پھر 
 
     حرام زادے سانپ تو نے پولیس وین پر پتھر پھینکنے کی جرأت کیسے کی۔۔۔۔؟‘‘
 
ابھی اس کے ذہن سے کہانی کا آغاز محو نہ ہوا تھا کہ کہانی کلائمکس پر پہنچ گئی ۔۔۔۔گاؤں سے مرد و زن اور بچوں کی چینح وپکار نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ یہ لوگ چیختے چلاتے 


گاؤں سے افراتفری کے عالم میں ایسے بھاگ رہے تھے جیسے ریوڑ میں بھڑئیے گھس آئے ہوں اور بھیڑیں اِدھر اُدھر بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ 

اس شور کے بعد فائرنگ کی آوازیں اس کے دل کے ٹکڑے کر رہی تھی۔ تقریباً نصف گھنٹہ بعد پولیس اور اوباش بلوائی اس کے قریبی خاندان کے بیس پچیس مرد 

عورتیں اور بچے ہانکتے ہوئے اس کے سامنے لے آئے اُن سب کو اس کے گرد ایک دائرے میں بیٹھنے کا حکم جاری ہوا۔اُس کی ماں نے جب لختِ جگر نورالحسن کو 

رسیوں میں جکڑے دیکھا تو ہولناک آوازیں نکالتی ہوئی اُس کی طرف دوڑی اسے سینے سے لگانے کے لئے ۔۔۔۔اس کا تین سالہ معصوم بھی چلاتے ہوئے ماں کے 

پیچھے دوڑا۔ پولیس کا نوجوان ماں بیٹے کے درمیان بجلی کی سی تیزی سے حائل ہوتے ہوئے عورت کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا کہ وہ چکراتی ہوئی دور جا گری اور اس کے

 منہ اور ناک سے خون بہنے لگا ۔ اس کے پیچھے دوڑتا معصوم نور الدین بھی بوسیدہ دیوار کی طرح زمین بوس ہوئی ماں کے ساتھ لپٹ گیا۔ایک موٹا تازہ بلوائی مجمعے کو چیرتا 

ہوا آگے بڑھا ننھے نورالدین کو ماں سے الگ کر کے زمین پر دے پٹخا اور دایاں پاؤں ننھے کے حلق پر اور بایاں پاؤں اس کی ٹانگوں پر رکھ دیایوں ’’ نوری‘‘ کو چیخنے چلانے 

سے جلد رہائی مل گئی۔ اپنے لاڈلے اور پیارے بھائی نوری کی حا لتِ زار دیکھ کر رسیوں میں جگڑے نورالحسن نے آنکھیں بھینچ لیں اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی 

 لڑی اس کے بے بس پاؤں کے پنجوں پر پڑی۔
    
سپاہی نے گن نورالحسن کے شانے پر لیجاتے ہوئے آنکھوں کی زبان سے پولیس آفسر سے اس کا کام تمام کرنے کی اجازت چاہی

                                                            
Next Page